:
Breaking News

National News: آپریشن سندور نے ثابت کیا کہ بھارتی فضائیہ کی پہنچ سے کوئی ہدف باہر نہیں، ایئر چیف اے پی سنگھ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | آپریشن سندور پر ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ کا بیان، 1200 کلومیٹر چوڑے محاذ پر حملوں، جدید ٹیکنالوجی اور 2047 تک فضائیہ کو مضبوط بنانے کے منصوبے پر تفصیل۔

25 اکتوبر 2026: نئی دہلی: بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران مغربی محاذ پر کیے گئے درست نشانے والے حملوں نے ثابت کیا کہ بھارتی فضائیہ کی پہنچ سے کوئی بھی ہدف باہر نہیں ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس کارروائی نے فضائی طاقت کی اہمیت اور ملک کے دفاع میں اس کے کردار کو مزید واضح کیا۔


اے پی سنگھ کے مطابق، آپریشن سندور کے دوران حملوں کا دائرہ تقریباً 1200 کلومیٹر چوڑا اور 200 کلومیٹر گہرا تھا۔ ان کے بقول، اس مہم نے فضائیہ کی صلاحیت پر مبنی حکمت عملی کو عملی طور پر ثابت کیا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کے بعد رک جانا درست نہیں ہوگا، بلکہ مستقبل کے چیلنجوں کے مطابق فوجی صلاحیتوں کو مزید بڑھانا ضروری ہے۔


کامیابی کے پیچھے کئی نظاموں کا اشتراک


فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ آپریشن سندور کی کامیابی کسی ایک لڑاکا طیارے یا ہتھیار کی مرہونِ منت نہیں تھی۔ درست خفیہ معلومات، مربوط فوجی نیٹ ورک، دور سے حملہ کرنے والے ہتھیار، الیکٹرانک جنگی صلاحیت، مضبوط فضائی دفاع اور ڈرون مخالف نظاموں نے مل کر اہم کردار ادا کیا۔


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید جنگ میں مختلف نظاموں کے درمیان بہتر تال میل اور بدلتے حالات کے مطابق تیزی سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی صلاحیت انتہائی اہم ہے۔ دشمن کی حکمت عملی میں تبدیلی آنے پر فضائیہ کے پاس کارروائی کے متعدد متبادل موجود ہونے چاہئیں۔


لڑاکا طیاروں اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ


اے پی سنگھ کے مطابق، آئندہ بھارتی فضائیہ کو اپنی جنگی صلاحیت مزید مضبوط کرنے کے لیے لڑاکا طیاروں اور دیگر فوجی وسائل کی تعداد بڑھانے کے ساتھ نگرانی، خفیہ معلومات جمع کرنے، الیکٹرانک جنگ، ڈرون روکنے اور محفوظ و مضبوط نیٹ ورک تیار کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی۔


انہوں نے فیصلے کرنے کے عمل میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کو بڑھانے کی ضرورت بھی بیان کی۔ ان کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی اور مختلف دفاعی نظاموں کا باہمی اشتراک مستقبل کی جنگی تیاریوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔


2047 تک فضائیہ کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے کا ہدف


فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ بھارتی فضائیہ کا طویل مدتی وژن 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے قومی ہدف سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، ترقی یافتہ ملک کے لیے محفوظ رہنا اور بحرانوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنا بھی ضروری ہے۔


انہوں نے کہا کہ 2047 تک مقصد دنیا کی سب سے زیادہ قابل، اختراعی اور تکنیکی طور پر خود کفیل ایرو اسپیس فورسز میں شامل ہونا ہے، تاکہ فضائیہ ملک کی حفاظت کے ساتھ اس کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرسکے۔


آپریشن سندور کا پس منظر


آپریشن سندور مئی 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے کے دوران 26 سیاحوں کی جان گئی تھی۔ اس کے بعد بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی تھی۔


بھارتی حکام نے اس مہم کے دوران متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی تھی۔ 10 مئی 2025 کو دونوں ممالک کے فوجی آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرلز (DGMO) کے درمیان بات چیت کے بعد فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق ہوا تھا۔


آپریشن سندور کے حوالے سے اے پی سنگھ کے تازہ بیان میں مستقبل کی جنگی تیاری، جدید ٹیکنالوجی، خود کفالت اور بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت کو بھارتی فضائیہ کی ترجیحات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں: "دیگر خبریں پڑھیں" (https://alamkikhabar.com/)

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *